ٹاؤن گدرپور، وارڈ نمبر ۸، ضلع ادھم سنگھ نگر، اتراکھنڈ - ۲۶۳۱۵۲ رجسٹرڈ ٹرسٹ • قیام ۱۹۹۲ء SWIFT: HDFCINBBXXX
دارالعلوم محمدیہ مدنی مسجد ٹرسٹ
زبان / Language
English اردو
آن لائن عطیہ دیں
🎯 اہداف و مقاصد • احیائے سنت و دعوت الی اللہ

اہداف و مقاصد، اہمیتِ مدارس اور مستقبل کے عظیم منصوبے

دارالعلوم محمدیہ کا بنیادی نصب العین نئی نسل کے ایمان و عقائد کا تحفظ، مسلکِ حق کی اشاعت، اکابرینِ دیوبند کی پاکیزہ روایات کا تسلسل اور ایسی صالح و باصلاحیت قیادت تیار کرنا ہے جو ہر میدان میں امت کی رہنمائی کر سکے۔

🕊️ اصلاحِ معاشرہ و اخوت
📖 مسلکِ علمائے دیوبند پر استقامت
🌱 نسلِ نو کے ایمان کا تحفظ
دارالعلوم محمدیہ وژن و مقاصد
🌟
خدمتِ خلق و اشاعتِ دین
بے لوث جدوجہد اور امانت و دیانت کا عہد
دستور و نصب العین

دارالعلوم محمدیہ گدرپور کے ۱۶ بنیادی اہداف و مقاصد

جامعہ دارالعلوم محمدیہ مدنی مسجد ٹرسٹ کے اغراض و مقاصد کتابچے کی روشنی میں حرف بہ حرف درج ذیل ہیں:

۱

دعوت الی اللہ کا فریضہ

دعوت الی اللہ کے مقدس فریضہ کو حکمت اور اخلاص کے ساتھ انجام دینا۔

۲

قرآنِ کریم کی تعلیم بر طبقِ سنت

قرآنِ کریم کو سنت کے مطابق سیکھنے اور سکھانے کی فضاء کو عام کرنا اور لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرنا۔

۳

اصلاحِ نظامِ تعلیم و مسنون امامت

مدارس کے نظامِ تعلیم کو درست کرنے کے لئے تعلیمی و تربیتی اجتماع کرنا اور مساجد کے ائمہ و موذنین کو مسنون نظام پر گامزن کرنا (اذان، اقامت، نماز، تلاوت سنت کے مطابق ہو)۔

۴

قریہ قریہ تربیتی مجالس

قریہ قریہ، بستی بستی اصلاحی و تربیتی مجالس اور وعظ و نصیحت کا باقاعدہ انعقاد کرنا۔

۵

ایک ساعتی دینی مکاتب کا قیام

ہر بستی میں دینی مدارس و مکاتب کا ایک ساعتی نظام قائم کرنا تاکہ تمام بچے قرآن و عقائد سے روشناس ہوں۔

۶

اشاعتِ کتب و رسائل برائے اصلاح

اصلاحِ منکرات اور شعورِ بیداری کے لیے موقع بموقع مناسب رسالے، کتابچوں اور پمفلٹس کی اشاعت۔

۷

رسومات کا خاتمہ و مسنون فضاء

شادی و غمی، نکاح و طلاق، ختنہ اور عقیقہ کی غیر شرعی رسومات کو مٹا کر خالص مسنون فضاء کو عام کرنا۔

۸

یتیم و غریب بچوں کے وظائف

علاقے کے یتیم یا غریب نادار بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے باقاعدہ وظائف کا مستقل انتظام کرنا۔

۹

مساجد کی آبادی و لائق ائمہ

غیر آباد مساجد کو آباد کرنا اور ان میں صالح، باصلاحیت اور لائق ائمہ و خطباء کا انتخاب کرنا۔

۱۰

تعمیرِ مساجد و سمریسیبل پانی نظم

جہاں مساجد نہیں وہاں مساجد کی تعمیر کرانا اور جہاں پانی کا نظم نہیں جگہ جگہ سمریسیبل و ہینڈ پمپ لگانا۔

۱۱

کفالتِ بیوگان، مساکین و آپریشن امداد

بیوہ عورتوں کی امداد، یتیم مساکین کی کفالت، اور زچہ بچہ آپریشن سے متعلق ضرورت مندوں کی مدد کرنا۔

۱۲

مستحق علماء کی مالی معاونت

تنگ دست اور مستحق علمائے کرام کی باعزت طریقہ پر مالی دستگیری و امداد فرمانا۔

۱۳

مستحق سادات کی خدمت

مستحق ساداتِ عظام کو خالص للہ امداد کی رقم سے حسبِ استطاعت ان کے تقاضوں کو پورا کرنا۔

۱۴

ترغیبِ صدقہ و گھر گھر گلک اسکیم

صدقہ کی ترغیب دلانا، اس کے لیے گلکوں کو گھر گھر بھجوا کر صدقہ جمع کر کے مستحقین تک پہنچانا۔

۱۵

چٹکی فنڈ کا نظام

گھروں میں اناج کے چٹکی فنڈ کا نظام جاری کرنا تاکہ ہر فرد کارِ خیر میں مسلسل حصہ دار بنے۔

۱۶

بود و باش میں ہندی، فکر میں مکی و مدنی

نونہالانِ امت کی ایسی تربیت کرنا کہ وہ بود و باش کے اعتبار سے گو ہندی ہوں، مگر فکر و نظر کے اعتبار سے مسلمان انسان مکی و مدنی ہوں!

مدارسِ اسلامیہ کی اہمیت اور خدمات (تاریخ کے آئینے میں)

جب سلطنتِ مغلیہ کا چراغ گل ہوا اور انگریز سامراج نے تسلط جمایا، تو مدارسِ اسلامیہ اور ان کے علمائے حق نے قربانیاں دے کر اسلام کی شمع کو روشن رکھا۔ قوم کے ان سپوتوں نے جگہ جگہ دین کے یہ مضبوط قلعے تعمیر کیے۔ مدارسِ اسلامیہ کے افراد آتے جاتے رہتے ہیں لیکن فکر اور سوچ تبدیل نہیں ہوتی، وہ بوریا نشین ہو کر 'قال اللہ و قال الرسول' کی صدا بلند کرتے ہیں تاکہ ایمان و اسلام کا سدِ سکندری قائم رہے۔

حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ

"مالٹا کی جیل سے واپسی پر فرمایا کہ اگر مسلمانوں کو اپنے تشخصات کے ساتھ ہندوستان میں رہنا ہے تو مکاتبِ دینیہ کا جال پھیلا دیں۔"

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ

"اگر اس وقت اسلام کی بقاء کی کوئی صورت ہے تو یہ مدارس ہیں، غرض بالیقین یہ مدارس خدا تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت اور بہت بڑی نعمت ہیں۔"

مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ

"مدرسہ سب سے بڑی کارگاہ ہے جہاں مردم سازی کا کام ہوتا ہے، جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار ہوتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے پوری کائنات کا حساب ہوتا ہے۔"

مستقبل کے تعلیمی و ترقّیاتی منصوبے

دارالعلوم محمدیہ مدنی مسجد ٹرسٹ نے آنے والے دور کی دینی و ملی ضرورتوں کے پیشِ نظر درج ذیل تعلیمی شعبہ جات کے قیام کا پختہ عزم کیا ہے:

۱. دورۂ حدیث کا تعلیمی نظم

صحاح ستہ کی مکمل تدریس کے لیے مستقل دار الحدیث اور مسندِ تدریس کا نظم۔

۲. شعبۂ دار الافتاء و تکمیلِ ادب

عوامی مسائل کے شرعی حل کے لیے باضابطہ افتاء اور عربی ادب میں مہارت کا شعبہ۔

۳. شعبۂ قراءت (سبعہ عشرہ)

شعبۂ اردو و عربی حفص اور قراءتِ سبعہ و عشرہ کا اعلیٰ پایہ کا نظم۔

۴. ایم ڈی ایم انٹر کالج کا قیام

مسلم نونہالوں کے لیے دینی ماحول میں اعلیٰ ثانوی عصری سکول و کالج کا قیام۔

جامعہ کے ۱۶ تعلیمی و دعوتی شعبہ جات دیکھیں ← تعمیری و رفاہی فنڈز میں تعاون کریں
کامیابی سے کاپی ہو گیا!