دارالعلوم محمدیہ کا بنیادی نصب العین نئی نسل کے ایمان و عقائد کا تحفظ، مسلکِ حق کی اشاعت، اکابرینِ دیوبند کی پاکیزہ روایات کا تسلسل اور ایسی صالح و باصلاحیت قیادت تیار کرنا ہے جو ہر میدان میں امت کی رہنمائی کر سکے۔
جامعہ دارالعلوم محمدیہ مدنی مسجد ٹرسٹ کے اغراض و مقاصد کتابچے کی روشنی میں حرف بہ حرف درج ذیل ہیں:
دعوت الی اللہ کے مقدس فریضہ کو حکمت اور اخلاص کے ساتھ انجام دینا۔
قرآنِ کریم کو سنت کے مطابق سیکھنے اور سکھانے کی فضاء کو عام کرنا اور لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کرنا۔
مدارس کے نظامِ تعلیم کو درست کرنے کے لئے تعلیمی و تربیتی اجتماع کرنا اور مساجد کے ائمہ و موذنین کو مسنون نظام پر گامزن کرنا (اذان، اقامت، نماز، تلاوت سنت کے مطابق ہو)۔
قریہ قریہ، بستی بستی اصلاحی و تربیتی مجالس اور وعظ و نصیحت کا باقاعدہ انعقاد کرنا۔
ہر بستی میں دینی مدارس و مکاتب کا ایک ساعتی نظام قائم کرنا تاکہ تمام بچے قرآن و عقائد سے روشناس ہوں۔
اصلاحِ منکرات اور شعورِ بیداری کے لیے موقع بموقع مناسب رسالے، کتابچوں اور پمفلٹس کی اشاعت۔
شادی و غمی، نکاح و طلاق، ختنہ اور عقیقہ کی غیر شرعی رسومات کو مٹا کر خالص مسنون فضاء کو عام کرنا۔
علاقے کے یتیم یا غریب نادار بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے باقاعدہ وظائف کا مستقل انتظام کرنا۔
غیر آباد مساجد کو آباد کرنا اور ان میں صالح، باصلاحیت اور لائق ائمہ و خطباء کا انتخاب کرنا۔
جہاں مساجد نہیں وہاں مساجد کی تعمیر کرانا اور جہاں پانی کا نظم نہیں جگہ جگہ سمریسیبل و ہینڈ پمپ لگانا۔
بیوہ عورتوں کی امداد، یتیم مساکین کی کفالت، اور زچہ بچہ آپریشن سے متعلق ضرورت مندوں کی مدد کرنا۔
تنگ دست اور مستحق علمائے کرام کی باعزت طریقہ پر مالی دستگیری و امداد فرمانا۔
مستحق ساداتِ عظام کو خالص للہ امداد کی رقم سے حسبِ استطاعت ان کے تقاضوں کو پورا کرنا۔
صدقہ کی ترغیب دلانا، اس کے لیے گلکوں کو گھر گھر بھجوا کر صدقہ جمع کر کے مستحقین تک پہنچانا۔
گھروں میں اناج کے چٹکی فنڈ کا نظام جاری کرنا تاکہ ہر فرد کارِ خیر میں مسلسل حصہ دار بنے۔
نونہالانِ امت کی ایسی تربیت کرنا کہ وہ بود و باش کے اعتبار سے گو ہندی ہوں، مگر فکر و نظر کے اعتبار سے مسلمان انسان مکی و مدنی ہوں!
جب سلطنتِ مغلیہ کا چراغ گل ہوا اور انگریز سامراج نے تسلط جمایا، تو مدارسِ اسلامیہ اور ان کے علمائے حق نے قربانیاں دے کر اسلام کی شمع کو روشن رکھا۔ قوم کے ان سپوتوں نے جگہ جگہ دین کے یہ مضبوط قلعے تعمیر کیے۔ مدارسِ اسلامیہ کے افراد آتے جاتے رہتے ہیں لیکن فکر اور سوچ تبدیل نہیں ہوتی، وہ بوریا نشین ہو کر 'قال اللہ و قال الرسول' کی صدا بلند کرتے ہیں تاکہ ایمان و اسلام کا سدِ سکندری قائم رہے۔
"مالٹا کی جیل سے واپسی پر فرمایا کہ اگر مسلمانوں کو اپنے تشخصات کے ساتھ ہندوستان میں رہنا ہے تو مکاتبِ دینیہ کا جال پھیلا دیں۔"
"اگر اس وقت اسلام کی بقاء کی کوئی صورت ہے تو یہ مدارس ہیں، غرض بالیقین یہ مدارس خدا تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت اور بہت بڑی نعمت ہیں۔"
"مدرسہ سب سے بڑی کارگاہ ہے جہاں مردم سازی کا کام ہوتا ہے، جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار ہوتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے پوری کائنات کا حساب ہوتا ہے۔"
دارالعلوم محمدیہ مدنی مسجد ٹرسٹ نے آنے والے دور کی دینی و ملی ضرورتوں کے پیشِ نظر درج ذیل تعلیمی شعبہ جات کے قیام کا پختہ عزم کیا ہے:
صحاح ستہ کی مکمل تدریس کے لیے مستقل دار الحدیث اور مسندِ تدریس کا نظم۔
عوامی مسائل کے شرعی حل کے لیے باضابطہ افتاء اور عربی ادب میں مہارت کا شعبہ۔
شعبۂ اردو و عربی حفص اور قراءتِ سبعہ و عشرہ کا اعلیٰ پایہ کا نظم۔
مسلم نونہالوں کے لیے دینی ماحول میں اعلیٰ ثانوی عصری سکول و کالج کا قیام۔