ٹاؤن گدرپور، وارڈ نمبر ۸، ضلع ادھم سنگھ نگر، اتراکھنڈ - ۲۶۳۱۵۲ رجسٹرڈ ٹرسٹ • قیام ۱۹۹۲ء SWIFT: HDFCINBBXXX
دارالعلوم محمدیہ مدنی مسجد ٹرسٹ
زبان / Language
English اردو
آن لائن عطیہ دیں
🏛️ سنِ قیام ۱۴۱۲ھ / ۱۹۹۲ء • ۳۲ سالہ درخشندہ تاریخ

جامعہ کا تعارف، تاریخی پس منظر و تائیداتِ اکابر

اتراکھنڈ و کماؤں کے حساس سرحدی خطے میں جہالت و بے دینی کے سدِ باب کے لیے وقت کے جلیل القدر اکابرین و شیوخ کے ایماء پر قائم ہونے والا عظیم دینی قلعہ۔ جہاں ۳۲ سالوں سے علومِ شریعت، سنتِ نبوی اور انسانیت سازی کی شمع روشن ہے۔

📜 ۱۵ جلیل القدر اکابر کے مکتوبات
👥 ۵۹ مقتدر علمائے کرام کی تشریف آوری
🌲 کماؤں و گدرپور کا مرکزی قلعۂ دین
مرکزی کیمپس دارالعلوم محمدیہ مدنی مسجد گدرپور
🏛️
مرکزی کیمپس دارالعلوم محمدیہ
گدرپور، ضلع ادھم سنگھ نگر، اتراکھنڈ
بسم اللہ خطاطی

پس منظر و قیام دارالعلوم محمدیہ مدنی مسجد ٹرسٹ گدرپور

"اتراکھنڈ کا کماؤں علاقہ نینی تال کے قریب نیپال، تبت اور چین کی سرحد سے متصل ایک انتہائی اہم اور حساس خطہ ہے۔ یہاں کے دور دراز جنگلات اور دامنِ کوہ میں آباد مسلم بستیاں دینی تعلیم اور اسلامی شعور سے اتنی محروم تھیں کہ کلمۂ توحید تک سے ناواقفیت تھی، اور بعض مقامات پر نمازِ جنازہ پڑھانے والا تک میسر نہ تھا۔ ایسے نا موافق حالات میں اللہ تعالیٰ کے فضل و توفیق اور اکابرِ امت کے مشورے سے اس مبارک قلعۂ دین کی بنیاد رکھی گئی۔"

۱. جغرافیائی پس منظر اور ادارے کا قیام (۱۴۱۲ھ / ۱۹۹۲ء)

ہندوستان کے پہاڑی علاقے اور ان کے دامن میں بسنے والی آبادیاں طویل عرصے سے دینی و تعلیمی فقدان کا شکار رہی ہیں۔ اتراکھنڈ کے ضلع اودھم سنگھ نگر میں واقع قصبہ گدرپور، نینی تال اور ٹنک پور کے قرب و جوار کا ایک اہم ترین مرکز ہے۔ اس پورے علاقے میں جو مسلمان آباد ہیں وہ دینی مدارس سے دوری کے باعث صحیح عقائد، احکامِ شریعت اور ملی شعور سے بے خبر ہی نہیں تھے؛ بلکہ جہالت، بدعات اور مشرکانہ رسوم میں مبتلا تھے۔ جو آبادی گھنے جنگلوں میں (مسلم گوجر برادری) پائی جاتی ہے، ان کی حالت یہ تھی کہ رہن سہن اور بود و باش میں غیروں سے کوئی امتیاز نظر نہیں آتا تھا۔

اس روح فرسا حالت کو دیکھ کر رہبرِ ملت حضرت مولانا مظاہر الحق صاحب دامت برکاتہم (خلیفۂ محی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئیؒ) نے، جنہوں نے:

  • عارف باللہ حضرت الحاج حافظ عبد الحق صاحبؒ (خلیفہ و جانشین حضرت شاہ واجد علی صاحبؒ)
  • استاذ الاساتذہ حضرت قاری حکیم عبد العزیز صاحبؒ (تلمیذِ رشید رئیس الجودین حضرت قاری عبدالمالک صاحبؒ)
  • قاطع بدعت حامی سنت شاہ فضل الحق صاحبؒ (جانشین حضرت شاہ عبد الحق صاحبؒ)
  • قاری حضرت قاری عبد الرحمن صاحبؒ اور حضرت شاہ صوفی محمد زبیر صاحبؒ

جیسے اکابر و شیوخ سے فیض پایا تھا، انہوں نے ان اضلاع کے حالات کو سامنے رکھ کر وقت کے جلیل القدر اکابرین و مشائخِ عظام سے باضابطہ مشورہ کیا اور ان کی سرپرستی میں ۱۴۱۲ھ مطابق ۱۹۹۲ء میں مجلس دعوۃ الحق مدرسہ دارالعلوم محمدیہ مدنی مسجد ٹرسٹ کی بنیاد رکھی۔

۲. اکابرین و مشائخِ عظام جن کے ایماء و مشورے سے بنیاد رکھی گئی

مرشدِ اول حضرت مولانا شاہ مسیح اللہ خان صاحبؒ مسیح الامت جلال آبادی، خلیفۂ ارشد حکیم الامت تھانویؒ (خصوصی سرپرستی و ایماء)
مرشدِ ثانی حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحبؒ محی السنہ ہردوئی، خلیفۂ مجدد الملت حضرت تھانویؒ (سرپرستی، تائید و دعا)
عارف باللہ قاری سید صدیق احمد صاحب باندویؒ خادم جامعہ عربیہ ہتھورا باندہ، نامور مصلح و رہبر
مفکرِ ملت حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ علی میاں ندوی، ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ و صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
شیخ الحدیث مولانا شیخ عبد الحق صاحبؒ سابق شیخ الحدیث ازہرِ ہند دارالعلوم دیوبند
شیخ الحدیث مولانا وسیم احمد صاحبؒ جامعہ اشرف العلوم رشیدیہ گنگوہ

۳. موجودہ سرپرستانِ عظام

جامعہ کو روزِ اول سے ہی جید علمائے حق اور مشائخِ امت کی روحانی اور دعائی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ موجودہ سرپرستوں میں درج ذیل جلیل القدر ہستیاں شامل ہیں:

طبیب الامت حضرت حکیم محمد کلیم اللہ صاحب علی گڑھ جانشین محی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئیؒ
فقیہ الامت حضرت اقدس مفتی احمد صاحب خانپوری مدظلہ شیخ الحدیث جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل، گجرات
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن صاحب اعظمی مدظلہ مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ و رئیس التحریر البعث الاسلامی
حضرت اقدس مولانا نور صاحب مدظلہ شیخ الحدیث جامعہ دارالعلوم رشیدیہ گنگوہ

۴. جامعہ کی شاہراہِ ترقی اور دینی بیداری کا انقلاب

الحمد للہ دارالعلوم محمدیہ نے اپنے قیام کے بعد سے حیرت انگیز دینی و تعلیمی خدمات انجام دی ہیں۔ ادارہ ایک کچی چھپر والی جھونپڑی سے شروع ہوا، اور آج دورۂ حدیث شریف تک مکمل دینی تعلیم، حفظِ قرآن مع تجوید اور عصری تعلیم کا ایک پروقار مرکز بن چکا ہے۔

ادارے کے درجاتِ حفظ سے فارغ ہونے والے اور سالِ ہفتم و دورۂ حدیث مکمل کرنے والے متعدد طلبہ ایشیاء کی عظیم دینی درس گاہ دارالعلوم دیوبند، مظاہر العلوم سہارنپور اور مدرسہ شاہی مرادآباد میں نمایاں پوزیشنز پر داخلہ حاصل کرتے ہیں۔

پہاڑی و جنگلی علاقوں میں جامعہ کی بے مثال خدمات:

  • رمضان المبارک میں ائمہ و حفاظ کی روانگی: ان دور دراز پہاڑی بستیوں میں جہاں نماز پڑھانے والا بھی میسر نہیں ہوتا، جامعہ اپنے فضلاء و حفاظ کو وہاں روانہ کرتا ہے اور ان کی مکمل کفالت خود برداشت کرتا ہے۔
  • جنگلات و دامنِ کوہ میں مساجد و مکاتب: گوجر برادری اور دیہی مسلم علاقوں میں جہاں اساتذہ کا جانا سخت دشوار ہوتا ہے، وہاں جامعہ نے مکاتب و مساجد کا جال بچھایا ہے اور اساتذہ کی تنخواہیں و اخراجات مرکز سے ادا کیے جاتے ہیں۔
  • اضلاع میں وسعت: اتراکھنڈ کے علاوہ اترپردیش کے اضلاع رامپور، بجنور، ہریدوار، مرادآباد اور غازی آباد وغیرہ میں ۲۰ سے زائد باضابطہ شاخیں قائم ہیں۔

۵. تاثرات و تائیدات عمائدینِ قوم و زعمائے ملت (مبارک تحریرات)

اکابرینِ امت اور وقت کے جلیل القدر علماء نے وقتاً فوقتاً مدرسہ دارالعلوم محمدیہ کا معائنہ فرمایا اور اپنے مبارک تاثرات قلمبند فرمائے:

مجود القرآن محی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئیؒ خلیفۂ مجدد الملت تھانویؒ

"موافق حالات میں تو آسانی سے کام ہو جاتا ہے لیکن ناموافق حالات، مخالف ماحول میں دشواریاں آتی ہیں، عزیزم مولوی مظاہر الحق سلمہ اللہ تعالیٰ پہاڑی علاقے کے قریب ضرورت کی جگہوں میں مدارس و مکاتب و مساجد کو قائم کر رہے ہیں۔ جی خوش ہوا۔ بارک اللہ و تقبل اللہ۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی مساعیِ جمیلہ کو قبول فرمائے اور ہر ایک شر و فتنہ سے اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے۔ آمین۔"

شیخ العرب والعجم مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ ۱۹ / ۴ / ۱۴۱۹ھ

"بعض دوستوں کے ذریعہ مجھے یہ معلوم ہوا کہ گدرپور ضلع نینی تال مقام اودھم سنگھ نگر کا مقامی اسلامی ادارہ مجلس دعوۃ الحق مدرسہ دارالعلوم محمدیہ مدنی مسجد ٹرسٹ نا موافق حالات میں نئی نسل کی دینی تعلیم و تربیت میں مصروف ہے۔ یہاں کے مسلمانوں کو اس مدرسہ کی سخت ضرورت ہے، یہ صرف اہلِ خیر کے تعاون پر قائم ہے اور ان کی امداد کا مستحق ہے، ذمہ دارانِ مدرسہ کے تعاون کے لیے میں نے یہ تصدیق نامہ لکھا ہے، وہ سب صحیح عقائد کے حامل اور اچھے اخلاق کے لوگ ہیں۔ واللہ الموفق۔"

— ابو الحسن علی الحسنی الندوی (19/4/1419 AH)
فقیہ الامت مفتی اعظم علامہ مفتی احمد خانپوری مدظلہ ۱۲ ربیع الآخر ۱۴۴۳ھ

"محب محترم جناب مولانا مظاہر الحق صاحب زید مجدہم سے احقر بخوبی واقف ہے۔ موصوف حضرت والا ہردوئی نور اللہ مرقدہ کے خلیفہ اور معتمد ہیں۔ محی السنہ کی خصوصی عنایات و محبت کا منظر میری نگاہوں میں ہے۔ اتراکھنڈ کے پہاڑی اور جنگلی علاقوں میں وہ دینی و ملی خدمات کا وسیع سلسلہ بڑی محنت و جانفشانی سے چلا رہے ہیں۔ آپ کے وطن گدرپور میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی اور کئی قائم فرمودہ مدارس و مکاتب کو دیکھا، ماشاء اللہ عمدہ کام ہو رہا ہے۔ اصحابِ خیر سے پرزور سفارش کرتا ہوں کہ ان کاموں میں مولانا موصوف کا بھرپور تعاون فرما کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔"

— مفتی احمد خانپوری (جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل، گجرات)
عارف باللہ حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد صاحب باندویؒ ۲۷ ربیع الاول ۱۴۱۷ھ

"مدرسہ الجامعۃ الاسلامیہ مجلس دعوۃ الحق مدرسہ دارالعلوم محمدیہ مدنی مسجد ٹرسٹ قصبہ گدرپور ضلع نینی تال کا ایک دینی ادارہ ہے۔ اس مدرسہ کی وجہ سے علاقہ میں دینی بیداری پیدا ہو رہی ہے، قرب و جوار میں کافی دور تک کوئی دوسرا دینی ادارہ نہیں ہے۔ مسجد کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے، وسائلِ آمدنی قلیل ہیں۔ تمام احباب سے گزارش ہے کہ اس مدرسہ کا بھی لحاظ رکھیں اور حلقۂ احباب میں سعی فرما دیں۔"

— صدیق احمد باندوی (خادم جامعہ اسلامیہ ہتھورا، ۲۷ ربیع الاول ۱۴۱۷ھ)
حضرت مولانا سعید الرحمٰن صاحب اعظمی مدظلہ ۱۳ رمضان ۱۴۲۴ھ

"مجلس دعوۃ الحق مدرسہ دارالعلوم محمدیہ مدنی مسجد ٹرسٹ گدرپور شمالی ہندوستان میں نینی تال کے قریب علاقہ میں واقع ہے، اور یہ مدرسہ دینی خدمات کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور تربیتی خدمت بھی انجام دے رہا ہے، نیز دینی تعلیم کی نشر و اشاعت اور عقائد کی درستگی کے لئے مختلف علاقوں میں مکاتب کا قیام بھی کرتا ہے۔ بندہ اس ادارہ کے لئے اہلِ خیر حضرات سے تعاون کی اپیل کرتا ہے۔ ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین۔"

— سعید الرحمٰن الأعظمی (مہتمم ندوۃ العلماء لکھنؤ)
عارف باللہ مولانا محمد انور صاحب گنگوہیؒ بانی و شیخ الحدیث دارالعلوم رشیدیہ گنگوہ (۱۴۱۶ھ و ۱۴۳۹ھ)

"مدرسہ کی تعلیمی و تعمیری ترقیات اور حسنِ انتظام اور اصلاح و تربیت کی عمدگی کو دیکھ کر دلی مسرت حاصل ہوئی۔"

شیخ الحدیث مولانا وسیم احمد صاحبؒ جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ (۱۴۲۱ھ)

"یہاں کے ماحول میں اتنی دلجمعی سے کام کرنا بہت سلیقہ مندی اور حوصلہ کی بات ہے، حق تعالی موصوف کی حفاظت فرمائے۔"

اساتذۂ دارالعلوم دیوبند (سالانہ ممتحنین) مولانا محمد علی بجنوری، مفتی خورشید انور گیاوی، مفتی توحید عالم، مفتی فہیم الدین (۱۴۳۳ھ)

"مجموعی اعتبار سے نتیجہ امتحان امید افزا، فرحت بخش اور تسلی بخش رہا ہے، اساتذہ اور طلبہ کی مخلصانہ جدوجہد کا ثمرہ ہے۔"

مولانا عبدالناصر صاحب نائب مہتمم مدرسہ شاہی بمعیت مفتی عمران اللہ و مفتی محمد توحید (۱۴۳۱ھ)

"اساتذہ کا جذبہ ہے کہ اس بنجر اور جہالت زدہ علاقہ میں یہ مدرسہ مینارۂ نور بن کر قوم و ملت کی رشد و ہدایت کا کام کرے۔"

۶. تشریف لانے والے چند مؤقر علماء کرام و مشائخِ عظام

قیام سے لے کر اب تک ہندوستان اور بیرونِ ہند (حرمین شریفین، افریقہ، بنگلہ دیش، لندن وغیرہ) سے جن عظیم شخصیات نے دارالعلوم محمدیہ مدنی مسجد گدرپور میں تشریف لا کر ادارے کو نوازا، ان میں سے چند معزز اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:

  1. شیخ المشائخ حضرت حکیم محمد کلیم اللہ صاحب (جانشین محی السنہ شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئیؒ)
  2. شیخ الحدیث مفتی محمد احمد خانپوری مدظلہ (ڈابھیل گجرات)
  3. علامہ محمد بن مصطفیٰ کرکدانی (شیخ الحدیث جامعہ علوم شرعیہ، مدینہ منورہ)
  4. عارف باللہ قاری امیر حسن صاحبؒ (صدر المدرسین اشرف المدارس ہردوئی)
  5. مولانا افضال الرحمن صاحب (شیخ الحدیث اشرف المدارس ہردوئی)
  6. مفتی محمد عبداللہ صاحب (شیخ الحدیث جامعہ مظہر سعادت، ہانسوٹ گجرات)
  7. مولانا شاہ عبداللہ میاں صاحب (مہتمم خدام الدین جامعہ اصلاح البنات، سملک گجرات)
  8. صوفی باصفا اسماعیل میاں صاحب (نائب مہتمم جامعہ اصلاح البنات، سملک)
  9. حضرت شاہ فہیم الحق صاحب حفظہ اللہ (خلیفہ حضرت شاہ حکیم اختر صاحبؒ)
  10. مولانا شاہ سلیم الحق صاحب (خلیفہ حضرت شاہ حکیم کلیم اللہ و خلیفہ سید رابع حسنی ندویؒ)
  11. مولانا عبدالرؤف صاحب (نائب ناظم مدرسہ اشرف المدارس ہردوئی)
  12. مولانا محمد ابراہیم صاحب افریقی (خلیفہ شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ و مفتی محمود حسن گنگوہیؒ)
  13. مولانا محمد تقی بھام صاحب افریقی (خلیفہ حضرت شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئیؒ)
  14. مفتی نذیر احمد صاحب بنتی (خلیفہ حضرت شاہ عبدالحمید صاحب، مہتمم دارالعلوم آزاد ول افریقہ)
  15. مفتی محمود پانڈور صاحب افریقہ
  16. محمد میاں صاحب حفظہ اللہ (لنیزیا افریقہ)
  17. حاجی حسن بھام صاحب افریقہ
  18. شاہ اسماعیل میاں صاحب افریقہ
  19. مولانا عبدالرحمن میاں صاحب افریقہ
  20. مفتی اعظم حبیب الرحمن صاحب خیر آبادی (صدر مفتی دارالعلوم دیوبند)
  21. علامہ قمر الدین صاحب گورکھپوریؒ (شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند)
  22. علامہ شیخ عبدالحق صاحبؒ (شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند)
  23. مولانا عبدالخالق صاحب سنبھلیؒ (نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند)
  24. مولانا نسیم احمد صاحب غازیؒ (شیخ الحدیث جامع الہدیٰ مراد آباد)
  25. مولانا اشہد رشیدی صاحب (مہتمم مدرسہ شاہی مراد آباد)
  26. مفتی محمد سلمان صاحب منصور پوری (استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند)
  27. مولانا عبدالناصر صاحب (نائب مہتمم مدرسہ شاہی مراد آباد)
  28. مولانا مصلح الدین صاحب (استاذ دارالعلوم دیوبند)
  29. مولانا توحید عالم صاحب (استاذ دارالعلوم دیوبند)
  30. مفتی محمد عمران اللہ صاحب (استاذ دارالعلوم دیوبند)
  31. مفتی محمد اجمل صاحب (استاذ مدرسہ شاہی مراد آباد)
  32. مولانا محمد شمشاد صاحب (جدہ، سعودی عرب)
  33. مفتی ریاست علی صاحب (صدر مفتی جامع مسجد امروہہ)
  34. مولانا محمد وسیم صاحب (شیخ الحدیث اشرف العلوم گنگوہ)
  35. مفتی محمد عبداللہ صاحب پھولپوریؒ (خلیفہ حضرت محی السنہ)
  36. مولانا محمد ایوب صاحب بھٹکلی (صدر جمعیۃ السنۃ والخیر یہ، گجرات)
  37. مولانا معین الدین صاحب (لندن، برطانیہ)
  38. مولانا محمد ابو طاہر صاحب (شیخ الحدیث چاٹگام، بنگلہ دیش)
  39. مولانا محمد علی صاحب بجنوری (استاذ دارالعلوم دیوبند)
  40. مفتی فہیم الدین صاحب (استاذ دارالعلوم دیوبند)
  41. مفتی خورشید عالم صاحب گیاوی (استاذ دارالعلوم دیوبند)
  42. مولانا محمد مزمل صاحب مظفر نگری (استاذ دارالعلوم دیوبند)
  43. مفتی محمد راشد صاحب اعظمی (استاذ دارالعلوم دیوبند)
  44. مولانا محمد امام الدین صاحب رانگڑی (صدر جمعیۃ علماء اتراکھنڈ)
  45. قاری ریاض احمد صاحب (صدر شعبۂ تجوید دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)
  46. الحاج شکیل احمد صاحب ممبئی (خلیفہ مفتی محمد حنیف صاحب)
  47. مفتی محمد غلام نبی صاحب (خادم الاسلام ہاپوڑ)
  48. قاری محمد شہزاد عالم صاحب شیر کوٹ
  49. مولانا رفیق احمد خطیب جامع مسجد شیر کوٹ
  50. مولانا محمد یامین صاحب (استاذ ناصر العلوم کانٹھ، مراد آباد)
  51. مفتی عبدالغفور صاحب (شیخ الحدیث جامع مسجد امروہہ)
  52. مفتی رفاقت حسین صاحب (استاذ حدیث جامع مسجد امروہہ)
  53. مفتی لئیق صاحب (مہتمم دارالابرار پھولپور، اعظم گڑھ)
  54. مفتی ظفر احمد صاحب اعظم گڑھ
  55. مولانا جمیل احمد صاحب (سابق ایم ایل اے)
  56. مولانا محمد زکریا کڈوا بن حافظ ایوب صاحب کڈوا (افریقہ)
  57. مولانا شمیم صاحب مناوی (افریقہ)
  58. مولانا محب اللہ صاحب رامپوری (ممبر آف پارلیمنٹ)
جامعہ کے ۱۶ بنیادی اہداف و مقاصد پڑھیں ← تعلیمی و اشاعتی شعبہ جات دیکھیں تعمیراتی فنڈ میں عطیہ دیں
کامیابی سے کاپی ہو گیا!