قرآنی تجوید و حسنِ قرات سے لے کر صحاحِ ستہ (بخاری و مسلم شریف) کی تدریس تک کا مستند نظام۔ ساتھ ہی جدید تقاضوں کے پیشِ نظر عصری انگریزی، ہندی، ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کی مکمل مفت تعلیم۔
جامعہ میں تشنگانِ علومِ نبویہ کے لیے ناظرہ و حفظِ قرآن، درسِ نظامی، شعبۂ تصحیح، عصری انگریزی و کمپیوٹر سے لے کر دعوت و اشاعت تک کے مکمل شعبے قائم ہیں:
اس شعبہ میں نورانی اور بغدادی قاعدہ حسبِ لیاقت طلبہ کو مع تجوید پڑھنے کی خوب خوب مشق کرائی جاتی ہے۔ قرب و جوار اور بالخصوص قصبہ گدرپور کے کثیر طلبہ و طالبات اس شعبہ کی زینت ہیں اور ماہر فن اساتذہ کی زیرِ نگرانی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ فی الحال مسجد کے ایک بڑے ہال میں کلاسز کا انتظام ہے۔
اس شعبہ میں صحتِ الفاظ اور تجوید کی رعایت کے ساتھ قرآنِ کریم کے حفظ کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ مقدارِ خواندگی اور حسنِ ادائیگی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے تاکہ طلبہ یادداشت اور لہجہ میں پختہ ہوں۔ حفظ کی تکمیل اشرف المدارس ہردوئی کے خطوط پر کرائی جاتی ہے۔
اس شعبہ میں عربی اول تا دورۂ حدیث کی تعلیم کا نہایت عمدہ اور معقول نظم ہے۔ ہر ہفتہ تحریری جائزہ بشکل تحریر ہوتا ہے جس سے طلبہ کے اندر علمی پختگی پیدا ہوتی ہے اور دارالعلوم دیوبند، مظاہر العلوم اور دیگر بڑے مدارس کے امتحانات میں داخلہ انتہائی آسان ہو جاتا ہے۔
اس شعبے میں باہر سے تشریف لانے والے اساتذہ اور حفاظ کو قرآنِ کریم کی صحت اور مخارج کے ساتھ پڑھانے کی تربیت پر محنت کرائی جاتی ہے تاکہ وہ نونہالانِ امت کو تراش کر قیمتی ہیرا بنا سکیں۔ ہردوئی سے فارغ شدہ قاری و عالم اس شعبے کی نگرانی فرماتے ہیں۔
شعبۂ حفظ و ناظرہ و درجاتِ عربی کے طلبہ کو روزانہ ایک گھنٹہ انگریزی بولنے، لکھنے اور پڑھنے کے ساتھ کمپیوٹر کی بنیادی و عملی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ جدید دنیا میں دین کا پیغام ہر زبان میں پہنچا سکیں۔
بزرگوں کا مقولہ ہے کہ 'قلم کی شیرینی زبان کی شیرینی سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے'۔ طلبہ کی تحریرات کو عمدہ، صاف اور جاذبِ نظر بنانے کے لیے اساتذۂ فن کی زیرِ نگرانی باضابطہ خوش خطی کی مشق کرائی جاتی ہے۔
مندروں، گرودواروں اور گرجوں کے قرب و جوار میں باہمی نفرت کو دور کر کے اسلام کی سچی تعلیم اور توحید کا تعارف کرانا۔
بے باک و فصیح مقررین اساتذہ کا تقرر جو قرب و جوار اور دور دراز علاقوں میں جا کر مشرکانہ رسوم و بدعات کی قباحت بیان کرتے ہیں۔
بدعات کے رد اور سنت کے احیاء پر کتب و مضامین کی تیاری، خاص طور پر سہ ماہی مجلہ 'رحمتِ عالم' کی اشاعت۔
عوام الناس کو درپیش شرعی مسائل، نکاح و طلاق، وراثت اور معاملات کا قرآن و سنت کی روشنی میں آسان اور مستند حل۔
فنِ تفسیر، حدیث اور فقہ کی ہزاروں نادر و قیمتی کتب کا ذخیرہ جس سے اساتذہ و طلبہ اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں۔
بیادگارِ حضرت محی السنہ شاہ ابرار الحق صاحبؒ۔ ہر جمعرات طلبہ کی تقریری مشق اور اردو و عربی خطابت کا شاندار بزم۔
طلبہ میں قلمی ذوق، مضمون نگاری اور انشاء پردازی کو پروان چڑھانے کے لیے ماہر اساتذہ کی زیرِ نگرانی باقاعدہ تربیت۔
رامپور، بجنور، ہریدوار، مرادآباد اور گوجر بستیوں میں ۲۰ سے زائد مکاتب کا قیام اور مرکز کی جانب سے اساتذہ کا انتظام۔
کتابچوں، اشتہارات اور مجلہ رحمتِ عالم کی کمپیوٹرائزڈ کمپوزنگ کے ساتھ ساتھ طلبہ کو تکنیکی تربیت کی فراہمی۔
بیرونی مقیم طلبہ کے لیے ناشتہ اور دو وقت کا معیاری کھانا، جس میں ہفتے میں تین دن گوشت کا خصوصی انتظام ہے۔
تالیف: رہبرِ ملت حضرت مولانا مظاہر الحق صاحب دامت برکاتہم (بانی و مہتمم دارالعلوم محمدیہ مدنی مسجد گدرپور):
طلبہ و اساتذہ کے شب و روز کا مسنون و روحانی نظام العمل:
ترانہ: "اے خدائے پاک رحمان و رحیم"، ایک اسلامی عقیدہ، اسمائے حسنیٰ مع ترجمہ، تلاوتِ قرآن، اجتماعی دعا، اور روزانہ طلبہ کی ظاہری حالت (بال، ناخن، لباس کی صفائی) کی باقاعدہ چیکنگ۔